آج کے کشميريوں کے حالات’ کشميريوں کی زبانی۔ پیٹر فريڈرک کے ساتھ۔

حصہ اول

0
Want create site? With Free visual composer you can do it easy.

 

 

ہمارا ملک اب اس موڑ پر آ گيا ہے کہ يہاں حادثے اپنی وہ تکليف کهو چکے ہيں جو ہونی چاہيے تهی۔ اب بری خبريں سن کر ڈر نہيں لگتا نہ ہی دکھ ہوتا ہے۔ اور اسکی وجہ ہے کہ ہم لوگ عادی ہوچکے ہیں ان حادثوں کے۔

آج کوئی حادثہ ہوگا اور سؤشل ميڈيا پر وائرل ہو جائےگا۔ نيوز چينل اور اخبارات اس حادثے کی آنچ پر اپنی روٹياں سيکتے ہيں’ پيسا بناتے ہيں۔ شاعروں کو ايک نيا موضوع مل جاتا ہے اپنا ہنر دکهانے کے ليے۔

اور پهر دو تين دن بعد کوئی نيا حادثه ہوتا ہے۔ سب چيزيں دوہرائی جاتی ہيں۔ اور پرانے حادثے کو بهلا ديا جاتا ہے۔

اور اب حالات يہ بهی ہيں که ہم ان حادثوں کو حادثوں کی نظر سے ديکھتے بهی نہيں۔ يہ محض ايک واقعه بن کر رہ جاتے ہيں۔ جس ميں بس کچھ ہوآ ہے۔

کشمير مدعے کا بھی يہی حال ہے۔ تمام نیوز چينل اور اخبارات چپی سادھے بيٹهے ہيں۔ جيسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کم از کم کشمير کے موجوده حالات سے واقف کيا جا سکتا تها ہندوستانی عوام کو۔ ليکن ميڈيا اور سوشل ميڈيا پر چهائی پڑی ہيں نہ جانے کيسی کيسی واہيات اور فضول خبريں۔

جب کہ يہ معامله اتنا سنجيدہ ہے کہ ملک ميں موجود ۲۰۰ سے زياده نیوز چيلنوں کو اسکی فکر ہو نہ ہو ليکن ديگر ممالک اور بيروني ميڈيا ميں بهی يہ ايک قابلِ ذکر و فکر مسٔلہ ہے۔

کيلیفورنيا کے ايک زميدار صحافی پيٹر فريڈرک اس وقت بہت سنجيدگی سے کشمیر مدعے کا مطالعہ کر رہے ہيں۔ اور نہ صرف انہوں نے مطالعہ کيا ہے بلکہ اس پر اچھا خاصہ کام بهی کيا ہے۔

يٹر فريڈرک نے کشمير کے مختلف لوگوں کےساتھ بات کی۔ پیٹر نے کئی پڑھے لکھے اور سماجی لوگوں کے ساتھ گفتگو کی اور کشمیر کے موجودہ حالات کا جائزہ ليا۔ اور ان سب انٹرويوز کو ديکهنے کے بعد کئی چوکانے والی باتيں سامنے آئی ہيں۔ کشمیر کے حالات ويسے نہيں ہيں جيسے دکھائے جا رہے ہيں

يعنی نہ اس طرح خراب ہيں جس طرح دکهائے جا رہے ہيں اور نہ اس طرح اچهے جس طرح ميڈيا دکها رہا ہے۔

کشمیر کے ان لوگوں سے کی گئی جو الگ الگ آنلائن انٹرويو کی شکل ميں موجود ہے کو پيٹر نے اپنے فيسبک پيج پر بهی اپلوڈ کيا ہے جنہيں آپ وہاں جا کر پڑھ سکتے ہيں۔ ان مختلف لوگوں سے کی گئی باتوں کو ہمنے تحريري شکل ميں آپکے سامنے پيش کيا ہے۔ ہمارے پاس ان لوگوں کی فہرست ہے جنکے ساتھ پيٹر نے گفتگو کی ہے۔

اس فہرست کا پہلا نام ہے شہناز قيوم۔ شہناز قيوم سے جب کشمير کے موجوده حالات کے بارے ميں پيٹر پوچهتے ہيں تو شہناز بتاتے ہيں کہ کشمیريوں کے پاس اب بهی آواز نہيں ہے۔ انکے پاس نيٹورک نہيں ہے۔

وہ انی بات کسی تک نہیں پہنچا سکتے۔ اور انکے ساتھ جو ہو رہا ہے نہ تو بتا سکتے ہيں نہ دکها سکتے ہيں۔ اور نہ ہی جان سلتے ہيں کہ کشمير کے موجودہ حالات کا ملک اور ملک کے لوگوں پر کيا فرق پڑ رہا ہے۔ نہ وہ يہ جان سکتے ہيں کے کشمير کے حالات کو لے کر سرکار کيا کر رہی ہے۔ وہاں درپيش مشکلات سے نمٹنے کے لئے کيا وسائل حقومت کے پاس ہيں۔

 

دنيا کے سامنے بی بي سی اور ايسے ہی ايک دو چينل ہيں جو بگڑتے حالات کا جائزہ لے رہے ہيں اور وہاں کے اصل حالات کی خبر بهی ہميں دے رہے ہيں۔ ليکن انکے ذريعه بهی جتنی خبر ہم تک آ رہی ہے وہ ناکافی ہے۔ ائسے ميں خود کشميری عوام کی رائے انہي کی زباني بہت اہم اور ضروری تهی۔ اور يہ کام پيٹر فريڈرک نے بخوبی کيا ہے۔

 

پيٹر کے يہ کہنے پر کہ میڈيا کہہ رہا ہے کہ اب تو کشمير ميں انٹرنيٹ اور پهون چالو کر ديا گيا ہے۔ شہناز کہتے ہيں کہ ائسا نہيں ہوآ بلکہ کشمير کے کچھ حصہ جيسے سمبا اور جمو جيسے علاقوں ميں نيٹورک بحال کيا گيا ہے۔ اور ائسا وہاں ايک مخصوص طبقه کے ہونے کی وجہ سے کيا گيا ہے۔ مسلم اکثريت والے علاقے اب بهی محروم ہيں۔ وہاں رہنے والے لوگوں کو۔ ابهی بهی تمام پرےشانيوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کهانے پينے سے لے کر رہنے تک کی دقتيں سامنے ہيں۔ گهر سے نکلنا تک دوبهر ہے۔

 

آگے شہناز کہتے ہيں کہ ميڈيا کچھ اور ہی دکها رہا ہے ملک کے حالات خراب کر رہا ہے بلکہ کشمير کے حالات بهی۔ سرکاری فيصلے کو جو کہ سرکار نے ملک کے فائدے کے ليے ليا ہو يا اپنے مفاد کے ليے کو مذہبی رنگ دے کر ملک کو نفرت کی آگ ميں جهونک رہا ہے۔

 

 

کشمیری لوگ اگر فوج سے بدظن ہے تو اسکی وجہ فوج کی عوام کے ساتھ کي گئی زيادتياں ہيں۔فوج تلاشي لينے کے نام پر انکے اور انکے گهر کی عورتوں کے ساتھ کرتی ہے۔ شک کی بنياد پر پر ہی کشميريوں کے ساتھ بدترين سلوک کيا جاتا ہے۔ کشميری یقيناً فوج سے بدظن ہيں ليکن ملک سے نہيں اور نہ کسی خاص مذہب و طبقه کے لوگوں سے۔ انکے سينوں ميں بهی ملک کے لئے وہی جذبه ہے جو کسی بهی عام ہندوستانی کے دل ميں ہوتا ہے۔ عام کشميريوں کےبچے بهی فوج ميں ہيں اور سرحد پر ملک کی حفاظت ميں اپنی جانيں داؤں پر لگاتے ہيں۔

ہر کشميری ايک عام زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ وہ کسی سے نفرت نہيں کرتا اور نہ کرنا چاہتا ہے۔

ليکن ميڈيا نے ايک ايک کشمیری کو ملک کے سامنے ائسے پيش کيا ہے جيسے ہر شخص اپنے کاندهے پر بندوق رکهے تيار بيٹها ہے قتلِ عام کرنے کے ليے

اور اسی کا نتيجہ بهی ہے کہ ملک کے مختلف شہروں ميں سہنے والے کشميريوں کو مارپيٹ تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہيں ہر شخص عجيب نظروں سے ديکھتا ہے۔

 

جاری۔۔۔۔

 

image from internet

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.

शयद आपको भी ये अच्छा लगे लेखक की ओर से अधिक