استاد بسملاہ خاں کے جادو سے محبت کر انہيں ياد کريں تو شائد انہيں کچھ ياد کر سکيں

0
Want create site? With Free visual composer you can do it easy.

 

ہندوستان کی سرزميں یوں تو بے شمار فنکاروں سے سرسبز رہی ہے۔ ليکن اسی زميں ميں کچھ ائسے فنکار بهی ہوئے ہيں کہ جنکا ثانی پوری دنيا ميں نہيں ملتا۔ وہ انی مثال آپ ہی تهے اور اپنے فن کے ساتھ ائسی وفا کر گئے کہ فن انکا اور وہ فن کے ہو گئے ہميشہ کے ليے۔ انہيں بيشقيمتی لوگوں ميں سےايک ہيں استاد بسملاہ خاں صاحب۔جو ايک پسماندا حلالخور سماج سے تعلق رکهتے تهے۔ انکا بچپن کا نام قمرالدين تها ليکن والد محبت سے بسملاه کہتے تهے۔ ٘

ٖانکے والد جناب پيغمبر بخش صاحب بهی ايک منجهے ہوئے فکار تهے اور انکے ہوٹهوں کے بوسے شہنائی ميں جان پهونکا کرتے تهے۔

اس روز جب وہ بہ وقتِ صبح شاہی دربار ميں شہنائی بجانے جا رہے تهے تو انکے کانوں ميں شہنائی جيسی ايک پر کيف آواز پڑی۔ يه آواز تهی ايک نوجنمے بچے کی۔ انکے يہاں بيٹا پيدہ ہوآ تها۔ اور يہ آواز سن کر پيغمبر بخش کے منہ سے يکايک بسملاه نکلا۔

 

استاد بسملاه خاں صاحب اس دنيا ميں ۲۱ مارچ ۱۹۱۶ کو تشريف لائے۔ بہار کے ايک چهوٹے سے گاؤں ڈمراؤ کے ٹهٹهيری بازار کے ايک کرائے کے مکان ميں ولادت ہوئی۔ حالاںکہ انکا بچپن کا نام قمرالدين تها ليکن وه بسملاه خاں کے نام سے مشہور ہوئے۔ وه اپنے والدين کی دوسری اؤلاد تهے۔ انکے خاندان کے لوگ درباری راگ بجانے ميں وہ عبور رکهتے تهے کہ انکا ثانی دور دور تک نظر نہيں آتا تها۔ بہار کی بهوج پر رياست ميں اپنا ہنر دکهانے اکثر جايا کرتے تهے۔

 

انکے والد بہار کی ڈمراؤ رياست کے بادشاہ کيشو پرساد سنگھ کے دربار ميں شهنائی بجايا کرتے تهے۔ استاد کے پردادا حسين بخش خان’ دادا رسول بخش’ چاچا غازی بخش خان اور والد پيغمبر بخش خان شہنائی بجاتے تهے۔ ۶ سال کی عمر ميں استاد اپنے والد کے ساتھ بنارس آ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے ماما علی بخش ولائتی سے شہنائی بجانا سيکها۔ انکے استاد انکے ماما ولائتی وشوناتھ مندر ميں شہنائی بجايا کرتے تهے.

 

استاد بسملاہ خاں ايک بلا کے فنکار تهے ليکن اپنی تمام زندگی ايک عام آدمی کی طرح بالکل صادگی سے گزار دی۔

استاد کا نکاح ۱۶ سال کی عمر ميں مگن خانم کے ساتھ ہوا جو انکے مامو صادق علی کی دوسری بيٹی تهیں۔ انہيں ۹ اؤلاديں ہوئيں۔ عام طور پر ہم ديکهتے ہيں کہ فنکاروں کے اپنے گهر والوں سے تعلقات اچهے نہيں ہوتے۔ ليکن وه ايک بہترین شوہر ثابت ہوئے۔ انہوں نے تا زندگی اپنی بیوی سے محبت کی۔ ليکن شہنائی کو بهی وه اپنی دوسری بيگم کہا کرتے تهے۔

۶۶ لوگوں کے اس پریوار کی تمام زميدارياں استاد اٹهاتے تهے۔ اپنے گهر کو کئی بار وه مذاق ميں بسملاه ہوٹل بهی کہتے تهے۔

لگاتار ۳۰ ۳۵ سالوں تک رياضات فن اور سات گهنٹے کا رياض انکی روز مرہ کی زندگی ميں شامل تها۔ علی بخش مامو کے انتقال کے بعد خاں صاحب اکيلے ہی ۶۰ سال تک اس ساز کو دلندياں بخشتے رہے۔

 

حالاںکہ بسملاه خاں شيأ مسلمان تهے ليکن پهر بهی وه تمام روائتی موسيقي کاروں کی طرح مذحبی شخص تهے۔ بابا وشوناتھ کے شہر کے بسملاه خاں ايک خاص قسم کے مذحبی آدمی تهے۔ انکے نزديک تمام مذحب ايک ہی تهے۔ مذحب انکے لئے صرف محبت کا نام تها۔ وہی محبت جو شہنائی کی شکل ميں وه تاعمر اپنے ہوٹهوں پر سجائے رہے۔

وہ کاشی کے بابا وشوناتھ مندر ميں تو شہنائی بجاتے ہی تهے اسکے علاوه گنگا کنارے بيٹھ کر گهنٹوں رياض کرتے تهے۔ اور اس پر وه پنج وقتہ نمازی بهی تهے۔ اور ماہ رمضان کے سارے روضه بهی رکهتے تهے۔ ہميشہ تيج تيوہاروں ميں بڑ چڑ کر شرکت کرتے تهے۔

 

بنارس چهوڑنے کے خيال سے ہی خاصے بيچين ہو جاتے تهے۔ گنگا کی محبت اور کاشی کی عقيدت کہيں نہيں جانے ديتی تهی۔ وہ ذات، قوم اور فرقه واريت ميں يقين نہيں رکهتے تهے۔ انکے لئے ساز ہی مذحب تها۔ استاد بسملاه خاں ہمارے ملک کی گذگا جمنی تہذيب کا جيتا جاگتا نمونہ تهے اور ايک سچے فنکار تهے۔

 

استاد بسملاہ نے اپنی پوری زندگی فن کے نام کی۔ اور مرتے دم تک شہنائی بجاتے رہے۔ انکی شہنائی ميں وه روحانيت تهی کہ سننے والی خود کو ايک الگ ہی دنيا ميں پاتے تهے۔ يہ بلا کا فنکار ۲۱ اگست ۲۰۰۶ کو ہميں چهوڑ کر چلا گيا۔

يہ جادوئی آواز ہميشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ حالانکہ ۲۰۰۱ ميں انہيں ہندوستان کے اعليٰ ترين اعزاز بهارت رتن سے سرفراز کيا گيا ليکن انکی ويسی قدر نہیں کی جا سکي جسکے وه مستحق تهے۔ علی انور کی کتاب ‘مساوات کی جنگ’ (۲۰۰۱) پہلی کتاب ہے جو شہنائی کے فنکار کی زندگی کی تمام تر مشکلات کو بيان کرتی ہے۔

 

کوئی ملک ويسے بهی کبهی کہاں کسی فنکار کا قرض اتار سکا ہے۔

بس انہيں محبت سے ياد کيجئے’ کہيں آپ اس شخصيت کا کچھ قرض اتار سکيں۔

 

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.

शयद आपको भी ये अच्छा लगे लेखक की ओर से अधिक