چمکی بخار اور نظامِ صحت

0
Want create site? With Free visual composer you can do it easy.

چمکی بخار اور نظامِ صحت

 

بہار ميں انسيفلايٹس (چمکی بخار) کی زد ميں آ کر اب تک ڈيڑھ سو بچوں کی جان جا چکی ہے۔ صوبه کے بارہ ضلعوں کو اس بیماری نے اپنی چپيٹ ميں لے رکھا ہے۔ جن ميں مظفر پور’ ويشالی’ مشرقي چاپرن وغيرہ شامل ہيں۔ يہ پہلی دفع نہيں کہ جب اس بیماري کی چپيٹ ميں آ کر اتنے بچوں کی جان گئی ہے۔ ۲۰۱۲ ميں اس بيماری کے چلتے ۱۷۸ بچے اور ۲۰۱۴ ميں ۱۳۹ بچے موت کا نوالا بن گيے تھے۔ ہر سال بہار ميں اس بيماری کی چپيٹ ميں آ کر بچے مرتے رہے ہيں۔ بس فرق اتنا ہے کہ ہر بار يہ تعداد اتنی نہيں ہوتی تھی۔ اتنی نہيں ہوتی تهی کہ ميڈيا کی توجه اپنی طرف کهينچ سکے۔ اور اب تؤ حال يہ ہے کہ روز اس تعداد ميں اضافه ہو رہا ہے۔ پورا ملک اس مسلسل چلنے والے حادثه کے صدمه ميں ہے۔ ليکن بہار کے وزيرِ اعلیٰ باہر گهوم رہے ہيں۔ ناکاره اپوزيشن زبان مکفل کر کے بيٹهی ہے۔ مرکزي وزيرِ صحت ہرش وردهن نے چمکی بخار کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے ليے اور اسکا معقول علاج تلاش کرنے کے ليے ايک ریسرچ سينٹر بنانے کی وکالت کی ہے۔ ايسا بالکل نہيں ہے انہوں نے پہلی مرتبہ ايسی کویٔی بات کہی ہو۔ معلوم ہو کہ ہرش وردهن ۲۰۱۴ ميں بھی مرکزی وزیر صحت تهے۔ اور اس بیماری کے چلتے ۲۰ سے ۲۲ جون تک مظفر پور ميں ہی رکے تھے۔ تب انہوں نے ايک ۱۰۰ بيڈ کا ہسپتال بنانے’ وایرولوجی ليب بنانے’ ميڈيکل کاليج کی سیٹ بڑھا کر ۱۵۰ سے ۲۵۰ کرنے اور اعلیٰ درجہ کا ريسرچ سينٹر بنانے جيسے تمام وعدے کيے تهے۔  جو صرف وعدے ہی نکلے۔ اب اگر انسے پوچھا جاے کہ ان تمام وعدوں کا کيا ہوآ تو ہرش وردھن گچا کها جائں۔

 

ايکيوٹ اينسيفلائٹس سنڈروم نامی اس بیماری کی اصل وجہ ليچی بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خالی پيٹ لیچی کهانے سے يہ بیماری پکڑ ليتی ہے۔ پہلے تو اس بيماری سے بچنا مشکل ہے اور اگر کویٔی بچ بهی جاے تو اسکی ياداشت جا سکتی ہے یا وہ زہنی طور پر کمزور ہو سکتا ہے۔

ليکن غور کيا جايے تو اس بيماری کی اصل وجہ ليچی نہيں ہے۔ اگر ايسا ہؤتا تو امير گھروں کے بچوں کو بهی يہ بيماری ہو جانی چاہيے تهی۔ ليکن ايسا نہيں ہوآ۔ يہ بيماری صرف غريب گھر کے بچوں کو ہی ہوتی ہے۔ ايسا اسليے بهی ہے شائد کہ ان بچوں کو پيٹ بھر کهانا نہيں مل پاتا ہے اور وه جسمانی اعتبار سے بہت کمزور ہوتے ہيں۔ انکا جسم اس طرح کی بيماريوں سے لڑنے ميں ناکام ہوتا ہے۔ بہار ميں پانچ سال سے چهوٹے بچوں ميں ۴۴ فيصد بچے لاغر ہيں کهانا نہ مل پانے کی وجہ سے۔ ان بچوں کو صحيح مقدار ميں کهانا ميسر نہيں تو بیمارياں تو لگينگی ہی دنيا بهر کی۔

بہات کا حال يہ ہے کہ يہاں پر بجٹ کا ۴ فيصد ہی صحت پر خرچ کيا جاتا ہے۔ ۱۷۶۸۵ لوگوں پر يہاں ايک ڈاکٹر ہے۔ آگر پورے ملک کے اعتبار سے بهی ديکھا جاے تو وه بھی خراب حالی ميں ہي ہے۔ ہندوستان ميں  ۱۱۰۹۷ لوگوں پر ايک ڈاکٹر ہے۔

اس بيماری کے پهيلنے کی وجہ ليچی نہيں بلکہ بھکھمری اور غریبی ہے۔ بہار ميں مڈ ڈے ميل پوری طرح فيل ہو چکا ہے۔ وہا کا ہر نظام غارت ہو چکا ہے۔ لؤگ بیماري کو آسمانی عذاب مان رہے ہيں۔ انہيں لگتا ہے کہ بارش ہو جاۓ تو سب ٹهيک ہو جایٔگا۔ کچھ لوگ آپنے بچوں کو گهر سے دور بهيج رہے ہيں۔ انہيں لگتا ہے کہ انکے گھروں پر ہی کوئی آسيب ہے۔ لوگوں ميں اس بيماری کے متعلق بہت عام معلومات بهی نہيں ہيں۔ انہيں نہيں پتا کہ اگر بيماری کے شروعاتی مرحلہ ميں ہی بچے کو گلوکوز چڑھا ديا جاۓ تو وه پوری طرح ٹھيک ہو سکتا ہے۔ سرکار پوری طرح خاموش ہے۔ اپوزيشن کو لقوه مار گیا ہے۔ غليظ ميڈيا کے جاہل کارکن آی سی يو ميں گهس کر علاج کرتے ہوۓ ڈاکٹر پر دھونس جما کر اپنی شہرت ميں اضافه کر رہے ہيں۔

مودی بات بات کر ٹويٹ کرتے ہيں۔ يہاں تک کہ شکهر دهون کی ذرا سی چوٹ پر بهی انکا ٹويٹ آ جاتا ہے۔ وه بهی اتنے بچوں کی موت پر خاموش بيٹهے ہيں۔ ايک لفظ نہيں نکلا منھ سے۔

اور اس چپی کی وجہ کيا ہے۔ انکا غريب اور پچھڑا ہوآ ہونا۔ وه غريب ہيں تو نظام کا دھيان انکی جانب ذرا سا نہيں۔ ايک ايک کر کے نيتا آتے ہيں اور وعدے اور اعلان کر کے چلے جاتے ہيں۔ ميڈيا آتا ہے اور کچھ دير کا رونا رو کر چلا جاتا ہے۔ اور اسکے بعد سب اپنے اپنے کاموں ميں مصروف ہو جاتے ہيں۔ اور غريبوں کے بچے یوں ہی روتے بلکھتے ہوۓ موت کی خاموشی اوڑھ ليتے ہيں۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.

You might also like More from author