ی وی ایم کی کہانی شجاع سيّد کی زبانی۔۔

0
Want create site? With Free visual composer you can do it easy.

Published by- Aqil Raza
By- Naeem Sarmad ~

 

۲۰۱۴ کے لوک سبھا انتخابات اور خاص کر اسکے نتيجے سامنے آنے کے بعد ای وی ايم خاصی سرخيوں ميں بنی ہوئی ہے۔ وجہ بی جے پی کے حق ميں آنے والے حیرت انگیز نتائج اور سياسی معلومات رکھنے والوں کی اٹکليں۔۔ اور اسکے بعد ايک شک اور يقين کا ملا جلا جن باہر آتا ہے کہ ای وی ايم مشین ہيک کی گئی ہے۔ اب تک اس معاملے پر ٹی وی چينلوں پر یا اخبارات ميں صرف مباحثے ہو رہے تھے ۔ ہر بولنے اور لکھنے والا اپنی رائے دے رہا تھا۔ اور پھر اچانک ايک شخص سامنے آتا ہے جسکا چونکانے والا بيان جہاں کتنوں کی آوازوں اور اٹکلوں کو اور مظبوط کر ديتا ہے وہیں کچھ اثرانداز لوگوں’ ٹی وی چينلوں اور اخبارات کے منھ پر تالا بھی لگا ديتا ہے۔

ہم بات کر رہے ہيں شجاع سيّد (سيّد حيدر احمد) کی جسکا تَعَلُّق حيدراباد سے ہے۔ بقول شجاع وه ای سی آئی ايل (ECIL) ميں کام کرتا تھا اور ای وی ايم مشین بنانے والی جماعت کا ہی ايک اہم رُکن بھی تھا۔ شجاع کہتا ہے کہ ۲۰۰۹ سے لے کر ۲۰۱۴ تک وہ وہاں کام کرتا رہا۔ حالانکہ ای سی آئی ايل اس بات کو ہی سرے سے خارج کر رہا ہے کہ شجاع نام کا کوئی شخص انکے یہاں کام کرتا تھا۔ ليکن ای سی آئی ايل کے نکار کر دينے بھر سے بات ختم نہیں ہو جاتی۔ معاملہ تفتيش طلب ہے۔اور ہر طور سے اسکی سی بی آئی جانچ ہونی چاہيے کہ ايک عام آدمی ايسے سوال اٹھا رہا ہے تو اس ميں کتنی سچّائی ہے۔ دو باتيں ہو سکتی ہيں’ اوّل تو یہ کہ شجاع کی باتوں ميں سچائی ہوگی دوسری یہ کہ وہ جھوٹا ہوگا۔ ليکن اگر شجاع کی باتوں ميں ذرا بھی سچٌائی ہے تو معاملہ حد درجہ کا سنگين ہے۔ اسکی سی بی آئی جانچ ضرور ہونی چاہيے’ حالانکہ ہم ديکھ رہے ہيں کہ سی بی آئی بنگال میں خود اپنا مذاق بنائے ہوئے ہے ليکن جانچ تو پھر بھی ہونی ہی چاہيے۔

اس معاملے سے جڑی بہت سی باتيں ہيں جو خاصی طويل ہيں اور آپ تک دو یا تین قسطوں ميں پہنچيگی۔ اور تفصيل طلب ہونے کے ساتھ پيچيدہ بھی اتنی ہی ہیں کہ آپکو لگيگا آپ ابنِ صفی کی کوئی جاسوسی کہانی پڑھ رہے ہيں۔ جس ميں بے شمار سازِشيں ہيں’ قتل و غارت ہے اور بہت سارا گھول مول بھی۔

اصل کہانی شروع ہوتی ہے جب ۲۱ جنوری ۲۰۱۹ کو انڈين جرنلسٹ اسوسيےشن(IJA) کے زيرِ احتمام ايک پريس کانفرينس کا انعقاد لندن ميں کيا جاتا ہے۔ جس ميں شجاع سيّد خود بھی اسکائپ کے ذریعے شامل ہوتے ہيں اور سارے معاملے پر کھل کر بات کرتے ہيں۔ بہ ذاتِ خود وه وہاں نہيں آتے اور اسکی وجہ وہ بتاتے ہيں ان کی جان کو خطره ہونا۔

بقول شجاع انکی ٹيم جس ميں ۱۴ لوگ شامل تھے کو بولا گیا کہ پتا لگايں کہ کیا یہ مشین(ای وی ايم) ہيک ہو سکتی ہے۔ اور اگر ہيک کی جا سکتی ہے تو کيسے۔ ان لوگوں سے مشين ہيک کر کے دکھانے کے لئے کہا گیا۔ انہيں لگتا تھا کہ مشین کی خامی ڈھونڈنے کے اعتبار سے ہمسے یہ پوچھا جا رہا ہے۔

ان لوگوں نے ايسی مشينيں بنائیں جو ہيک کی جا سکتی تھيں۔ اسکے بعد انسے کہا گیا کے اب ايسی مشینيں بناؤ جنہيں ہيک نہ کيا جا سکے۔ شجاع کہتے ہيں کہ ہميں اس وقت نہيں پتا تھا کہ انتخابات ميں یہ مشینيں نہيں بلکہ وہی مشینيں استعمال ہونگی جو ہمنے نمونے کے طور پر بنائی تھيں اور جو ہيک کی جا سکتی تھيں۔ ٹيم اس سارے معاملے کو جانتی تھی اس لئے پوری ٹيم کو مروا ديا گیا۔ شجاع بتاتے ہيں کہ ۱۲ مئی ۲۰۱۴ کو انہيں حيدراباد بلایا جاتا ہے۔ اور ايک بی جے پی نيتا کے اشارے پر گولی چلائی جاتی ہے اور ٹيم کے ۱۲ لوگ جن ميں يہ خود بھی شامل تھا گولی کا شکار ہو جاتے ہيں۔ جب شجاع کو ہوش آتا ہے تو وه خود کو ايک وين ميں پاتا ہے لاشوں کے بيچ جہاں سے وه کسی طرح بھاگ نکلتا ہے۔ اور اس کے بعد جان بچانے کے ليے ملک چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔

بقول شجہ امريکہ ميں بھی ان پر تين بار جان ليوا حملے ہوئے جسکی وجہ سے انہوں نے پريس کانفرينس ميں خود نہ آ کر صرف اسکائپ پر ويڈيو کال کے ذریعے بات کی۔ شجاع يہ بھی بتاتا ہے کہ گوری لنکيش کی موت کی وجہ بھی وه نہيں جو مشہور کر دی گئی بلکہ يہ تھی کہ وه شجاع سے جڑی ہوئی تھيں اور اس سارے معاملے کو ميڈيا کے ذريعے سبکے سامنے لانے والی تھی ليکن ايسا ہونے سے قبل ہی بے رحمی سے انکا قتل کر ديا گیا۔

جاری۔۔۔۔۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.

शयद आपको भी ये अच्छा लगे लेखक की ओर से अधिक